حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 394
394 کہ کوئی میدان میں نکلے اور منہاج نبوت پر مجھ سے فیصلہ کرنا چاہے پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے۔مگر میدان میں نکلنا کسی محنت کا کام نہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۹) تائید الہی میں مقابلہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تکذیب اور مخالفت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔نہ معلوم کہ میری تکذیب کے لئے اس قدر کیوں مصیبتیں اٹھارہے ہیں۔اگر آسمان کے نیچے میری طرح کوئی اور بھی تائید یافتہ ہے اور میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے کا مکذب ہے تو کیوں وہ میرے مقابل پر میدان میں نہیں آتا؟ عورتوں کی طرح باتیں بنانا یہ طریق کس کو نہیں آتا۔ہمیشہ بے شرم منکر ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔لیکن جبکہ میں میدان میں کھڑا ہوں اور تمہیں ہزار کے قریب عقلاء اور علماء اور فقراء اور فہیم انسانوں کی جماعت میرے ساتھ ہے اور بارش کی طرح آسمانی نشان ظاہر ہورہے ہیں تو کیا صرف منہ کی پھونکوں سے یہ الہی سلسلہ برباد ہوسکتا ہے؟ کبھی برباد نہیں ہوگا دہی برباد ہونگے جو خدا کے انتظام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۱۸۱) مذہبی توہین آمیزی کا محرک کون؟ تقریباً ہر مذہب مذہبی رواداری کی تعلیم دیتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مذہبی رواداری کی بجائے مذہبی توہین آمیزی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا جارہا تھا۔عیسائی پادریوں اور