حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 395
395 بعض آر یہ پنڈتوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی گستاخانہ اور توہین آمیز رویہ اپنا رکھا تھا۔اور آپ کی ذات بابرکات پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جواباً کسی قدر سخت رویہ اختیار کیا جس پر بعض علماء نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ گویا عیسائی پادریوں اور پنڈتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے اور توہین کرنے پر آپ نے مجبور کیا ہے۔چنانچہ اس الزام کا رد کرتے ہوئے آپ نے درج ذیل چیلنج دیئے۔میں سچے دل سے اس بات کو بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کی نظر میں یہی سچ ہے کہ بدگوئی کی بنیاد ڈالنے والا میں ہی ہوں اور میری ہی تالیفات نے دوسری قوموں کو تو ہین اور تحقیر کا جوش دلایا ہے تو ایسا خیال کرنے والا خواہ ابزرور کا ایڈیٹر ہو یا انجمن حمایت اسلام لاہور کا کوئی ممبر یا کوئی اور گواہ ثابت کر دکھاوے کہ یہ تمام سخت گوئیاں جو پادری فنڈل سے شروع ہو کر امہات المومنین تک پہنچیں یا جواندرمن سے ابتدا ہو کر لیکھرام تک ختم ہوئیں۔میری ہی وجہ سے بر پا ہوئی تھیں تو میں ایسے شخص کو تاوان کے طور پر ہزار روپیہ نقد دینے کو طیار ہوں“ البلاغ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۸) ایک دوسرے موقع پر فرمایا۔”اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو!!! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی تو ہین کو چپکے سے سنے جائیں۔کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں نکالی جائیں اور ہم خاموش رہیں ہم نے برسوں تک خاموش رہ کر یہی دیکھا ہم دیکھ دیئے گئے اور صبر کرتے رہے مگر پھر بھی ہمارے بدگمان دشمن باز نہ آئے اگر تمہیں شک ہے اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے ہی عیسائیوں