حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 376
376 دونوں فریق آمین کہیں گے۔اور ایک سال تک اس کی میعاد ہوگی۔اور فریق مغلوب کی سزاوہ ہوگی جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔“ جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۹،۴۸) عبد اللہ آتھم کا رد عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا مباہلہ کے چیلنج کا ڈاکٹر مارٹن کلارک نے تو کوئی جواب نہ دیا البتہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے درج ذیل جواب دیا۔مباہلات بھی از قسم معجزات ہی ہیں۔مگر ہم بروے تعلیم انجیل کسی کے لئے لعنت نہیں مانگ سکتے۔جناب صاحب اختیار ہیں جو چاہیں مانگیں اور انتظار جواب ایک سال تک کریں۔( بحوالہ جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۵۶) ڈاکٹر ڈوئی کو مباہلہ کا چیلنج امریکہ میں ایک شخص ڈاکٹر جان الیگزنڈر ڈوئی کے نام سے مشہور تھا جس نے ۱۸۹۹ء میں پیغمبر ہونے کا دعوی کیا۔اور بزعم خود یورپ اور امریکہ کی عیسائی اقوام کی اصلاح اور انہیں سچا عیسائی بنانے کا بیڑا اٹھایا۔یہ امریکہ کا ایک مشہور اور متمول شخص تھا۔اس نے ۱۹۰۱ء میں ایک شہر صیہون آباد کیا جو اپنی خوبصورتی وسعت اور عمارات کے لحاظ سے تھوڑے ہی عرصہ میں امریکہ کے مشہور شہروں میں شمار ہونے لگا۔اس شہر سے ڈاکٹر ڈوئی کا ایک اپنا اخبار ”لیوز آف ہیلنگ نکلتا تھا۔اس اخبار نے ڈاکٹر ڈوئی کی شہرت اور نیک نامی کو چار چاند لگا دیئے۔الغرض ڈاکٹر ڈوئی کو امریکہ میں جلد ہی بہت شہرت کا مقام حاصل ہو گیا۔مشخص اسلام اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا اور ہمیشہ اس فکر میں رہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو سکے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جب ڈاکٹر ڈوئی کے دعاوی کا علم ہوا تو آپ