حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 377 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 377

377 نے ۸ / اگست ۱۹۰۲ء کو ایک چٹھی لکھی جس میں حضرت مسیح کی وفات اور سرینگر میں ان کی قبر کا ذکر کرتے ہوئے اسے مباہلہ کا درج ذیل چیلنج دیا۔اور لکھا کہ۔غرض ڈوئی بار بار کہتا ہے کہ عنقریب یہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔بجز اس گروہ کے جو یسوع مسیح کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت۔اس صورت میں یوروپ اور امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہئے کہ وہ بہت جلد ڈوئی کو مان لیں تا ہلاک نہ ہو جائیں ہم ڈوئی کی خدمت میں یہ ادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کو مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بارموت کی پیشگوئی نہ سنائیں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے“۔( ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۰۲ء) ڈاکٹر ڈوئی نے تو حضرت اقدس کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا مگر امریکہ کے اخبارات نے اس پیشگوئی کا ذکر اچھے ریمارکس کے ساتھ کیا۔چنانچہ ایک اخبار اوگوناٹ“ سان فرانسسکو نے اپنی یکم دسمبر ۱۹۰۲ء کی اشاعت بعنوان ”اسلام و عیسائیت کا مقابلہ دعا لکھا کہ۔”مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو انہوں نے ڈوئی کو لکھا یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے یہ دعا کرے کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے خدا اسے ہلاک کرے۔یقینا یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔“ جب ڈوئی نے حضور کو کوئی معقول جواب نہ دیا اور مباہلہ پر آمادگی کا اظہار بھی نہ کیا تو حضور نے ۱۹۰۳ء میں چٹھی کے ذریعہ اپنے مباہلہ کے چیلنج کو پھر دہرایا اور لکھا کہ۔میں ستر سال کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان