حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 375
375 عیسائیوں کو مباہلہ کے چیلنج ڈاکٹر مارٹن کلارک کو مباہلہ کی تجویز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۳ء میں عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ سے قبل ڈاکٹر مارٹن کلارک کو یہ تجویز پیش کی کہ منقولی اور معقولی بحث کے علاوہ فریقین کے درمیان مباہلہ بھی ہونا چاہئے۔تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہو جائے۔اور یہ بات کھل جائے کہ سچا اور قادر خدا کس کے ساتھ ہے؟ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے درج ذیل تجویز پیش کی۔اس اشتہار کے ذریعہ سے ڈاکٹر صاحب اور ان کے تمام گروہ کی خدمت میں التماس ہے کہ جس حالت میں انہوں نے اس مباحثہ کا نام جنگ مقدس رکھا ہے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں قطعی فیصلہ ہو جائے اور یہ بات کھل جائے کہ سچا اور قادر خدا کس کا خدا ہے۔تو پھر معمولی بحثوں سے یہ امید رکھنا طمع خام ہے۔اگر یہ ارادہ نیک نیتی سے ہے تو اسے بہتر کوئی بھی طریق نہیں کہ اب آسمانی مدد کے ساتھ صدق اور کذب کو آزمایا جائے اور میں نے اس طریق کو بدل و جان منظور کر لیا ہے۔اور وہ طریق بحث جو منقولی اور معقولی طور پر قرار پایا ہے گو میرے نزدیک چنداں ضروری نہیں مگر تا ہم وہ بھی مجھے منظور ہے۔لیکن ساتھ اس کے یہ ضروریات سے ہوگا کہ ہر ایک چھ دن کی میعاد کے ختم ہونے کے بعد بطور متذکرہ بالا مجھ میں اور فریق مخالف میں مباہلہ واقع ہوگا اور یہ اقرار فریقین پہلے سے شائع کر دیں کہ ہم مباہلہ کریں گے۔یعنی اس طور سے دعا کریں گے کہ اے ہمارے خدا۔اگر ہم دجل پر ہیں تو فریق مخالف کی نشان سے ہماری ذلت ظاہر کر۔اور اگر ہم حق پر ہیں تو ہماری تائید میں نشان آسمانی ظاہر کر کے فریق مخالف کی ذلت ظاہر فرما اور اس دعا کے وقت