حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 17 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 17

17 یہی سکھاتا ہے کہ جب کسی حدیث کی صحت بقوانین روایت ثابت ہو تو اس کو قرآن مجید کی مانند واجب العمل سمجھیں۔جب حدیث صحیح خادم و مفسر قرآن اور وجوب عمل میں مثل قرآن ہے تو پھر قرآن اس کی صحت کا حکم و معیار محکم کیونکر ہوسکتا ہے۔پس سنت قرآن پر قاضی ہے اور قرآن سنت کا قاضی نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلان فرمایا کہ۔قرآن مجيد الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تِبْيَانًا لِكُلِّ شیء کے وسیع اور مرقع تخت پر جلوہ گر ہے۔“ آخری پرچہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ مولوی محمد حسین صاحب اصل موضوع مباحثہ یعنی حیات و وفات مسیح سے گریز کر رہے ہیں اور نکمی اور فضول اور بے تعلق باتوں میں وقت ضائع کیا ہے۔اب ان تمہیدی امور میں زیادہ طول دینا ہرگز مناسب نہیں۔ہاں اگر مولوی صاحب نفس دعوی میں جو میں نے کیا ہے بالمقابل دلائل پیش کرنے سے بحث چاہیں تو میں حاضر ہوں۔آسمانی نشان دکھانے کی دعوت اور فرمایا کہ میں ان کے مقابل پر اس طرز فیصلہ کیلئے راضی ہوں کہ چالیس دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق خدا تعالی سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے۔جو شخص اس میں صادق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدا تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو جائے وہی سچا قرار پائے۔آخر پر فرمایا۔”اے حاضرین اس وقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالی کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلاسکیں جو میں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں اور جو تاوان چاہیں