حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 16
16 مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ مناظرہ ان حضرات کا سلسلہ میں داخل ہونا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب مباحثہ کیلئے مجبور ہو گئے۔چنانچہ جب حضرت اقدس امرتسر سے لدھیانہ تشریف لے گئے تو ۲۰ / جولائی ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس کی جائے قیام پر ہی مباحثہ کا آغاز ہوا۔اس مباحثہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی کے علاوہ کپورتھلہ اور ضلع لدھیانہ کی جماعتوں کے احباب خاص طور پر شریک تھے۔یہ مباحثہ بارہ دن تک جاری رہا اور آخری پر چہ ۳۱ / جولائی کو سنایا گیا جس پر یہ مباحثہ ختم ہوا۔یہ مباحثہ انہی تمہیدی امور پر ہوتا رہا جو مولوی محمد حسین صاحب منوانا چاہتے تھے۔اور اصل موضوع حیات و وفات مسیح پر بحث سے بچنے کیلئے مولوی صاحب موصوف ان تمہیدی امور بحث کو طول دیتے چلے گئے۔امر زیر بحث یہ رہا کہ حدیث کا مرتبہ بحیثیت حجت شرعیہ ہونے کے قرآن مجید کی طرح ہے یا نہیں اور یہ بخاری اور مسلم کی احادیث سب کی سب صحیح ہیں اور قرآن مجید کی طرح واجب العمل ہیں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار یہی جواب دیا کہ میرا مذہب یہ ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔جس امر میں حدیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے۔لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ کے مخالف واقع ہوں گے تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے۔اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اس حدیث کو ترک کر دیں گے۔اور ہر مومن کا یہی مذہب ہونا چاہئے کہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرطی طور پر حجت شرعی قرار دیوے۔مگر مولوی محمد حسین صاحب اس موقف کی تردید کرتے چلے گئے اور کہتے گئے کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنا مذہب یہ بیان کیا کہ صحیحین کی تمام احادیث قطعی طور پر صیح اور بلا وقفہ و بلا شرط و بلا تفصیل واجب العمل والاعتقاد ہیں۔اور مسلمانوں کو مومن بالقرآن ہونا