حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 18 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 18

18 میرے پر لگا دیں۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔“ اس پر یہ مباحثہ ختم ہو گیا۔مولوی رشید احمد گنگوہی کو مباحثہ کی دعوت ان حالات میں جب ہر جگہ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اکسایا اور بھڑ کا یا جار ہا تھا حضور چاہتے تھے کہ کسی با رسوخ اور با اثر عالم سے آپ کا حیات و وفات مسیح اور آپ کے دعاوی پر مباحثہ ہو جائے تا عامتہ الناس کو حق و باطل میں امتیاز کا موقعہ مل سکے۔اس لئے آپ نے تمام علماء کو بذریعہ اشتہار دعوت مناظرہ دی۔مولوی رشید احمد گنگوہی ضلع سہارنپور میں ایک بہت بڑے عالم اور فقیہ اور محدث خیال کئے جاتے تھے اور انہیں گروہ مقلدین میں وہی مرتبہ اور مقام حاصل تھا جو مولوی سید نذیر حسین صاحب کو اہل حدیث گروہ میں تھا۔وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباحثہ کرنے میں پہلو تہی کرتے رہے۔پیر سراج الحق نعمانی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص مرید تھے اور لدھیانہ میں حضور کی خدمت میں حاضر تھے اور مولوی رشید احمد گنگوہی کے ہم زلف بھی تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد گنگوہی کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کیلئے آمادہ ہوں۔چنانچہ پیر صاحب اور ان کے درمیان خط و کتابت ہوئی۔حیات و وفات مسیح پر وہ بھی بحث کیلئے تیار نہ ہوئے اور لکھا کہ بحث نزول مسیح میں ہوگی اور تحریری نہیں بلکہ صرف زبانی ہوگی۔لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔اور حاضرین میں سے جس کے جی میں جو آوے رفع شک کے لئے بولے گا۔اور بحث کا مقام سہارنپور ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سہارنپور جانا بھی منظور فرمالیا اور لکھوایا کہ حفظ امن کیلئے آپ سرکاری انتظام کر لیں۔جس میں کوئی یورپین افسر ہو اور انتظام کر کے ہمیں لکھ بھیجیں۔ہم تاریخ مقررہ پر آجائیں گے۔تحریری مباحثہ کا جھگڑا حاضرین کی