حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 334
334 ۱۸۹۳ء کو شائع فرمایا تھا جس میں آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ میں صرف اپنے متعلق اس قسم کی بددعا کروں گا اور اس مباہلہ میں کوئی میعاد نہ تھی۔اب ایک عقلمند کیلئے یہ غور کا مقام ہے کہ آپ نے عبدالحق غزنوی کے لئے کوئی بددعا نہیں کی تھی۔صرف جھوٹے اور مفتری ہونے کی حالت میں اپنے لئے تباہی اور بربادی کی بددعا کی تھی اور عبد الحق غزنوی نے بھی آپ کو جھوٹا اور مفتری قرار دیتے ہوئے صرف آپ کے لئے بددعا کی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کرنے کا نتیجہ کیا نکلا۔نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں فریق کی بددعا ئیں آپ کے حق میں دعائیں بن کر لگیں اور اس مباہلہ کے بعد جو ترقی آپ کو اور آپ کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے دی وہ کسی سے مخفی نہیں۔مباہلہ بعد خدائی نصرت۔۔۔صداقت پر ایک زبر دست نشان ہیں۔حافظ محمد یعقوب صاحب کی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا اس مباہلہ میں یہ زبردست نشان دیکھنے میں آیا کہ حضرت اقدس نے ابھی اپنی دعا ختم نہ کی تھی کہ حافظ محمد یعقوب صاحب جو حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر کے بڑے بھائی تھے اور غزنویوں کے مرید تھے ایک چیخ مار کر روتے ہوئے حضرت اقدس کے قدموں میں گر گئے اور کہا کہ آپ میری بیعت قبول کریں۔حضرت اقدس نے فرمایا۔مباہلہ سے فارغ ہو لیں تو بیعت لیں گے۔نہ نظارہ دیکھ کر غزنوی مولویوں اور ان کے معتقدین کے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ مباہلہ میں یہ حضرت اقدس کی پہلی فتح ہے۔بہر حال اس طرح مباہلہ ختم ہو گیا اور حضرت اقدس واپس مکان پر تشریف لے گئے۔(رسالہ نور احمد صفحه ۳۲ طبع دوم مصنفہ شیخ نور احمد احمدی)