حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 28 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 28

28 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کی غیرت کو ہر طرح جوش دلایا کہ تا وہ بحث کیلئے میدان میں اتریں۔مگر مولوی صاحب مختلف حیلوں بہانوں سے ہمیشہ بحث کرنے سے گریز کرتے رہے۔مولوی محمد بشیر صاحب بھو یالوی سے مباحثہ جب شیخ الکل مولوی نذیر حسین دہلوی اور دوسرے علماء کا ”حیات و وفات مسیح پر مباحثہ کرنے سے انکار اور فرار سب لوگوں پر واضح ہو گیا تو دہلی والوں نے مولوی محمد بشیر بھوپالوی کو جو ان دنوں بھوپال میں ملازم تھے مباحثہ کیلئے بلایا۔جس نے خلاف مرضی شیخ الکل اور مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر علماء حیات و وفات مسیح پر بحث کرنا منظور کر لیا اور انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ان کی شکست ہماری شکست متصور نہ ہوگی۔یہ مباحثہ ۲۳/اکتوبر ۱۸۹۱ء کو بعد نماز جمعہ شروع ہوا۔تین پرچے مولوی محمد بشیر صاحب نے لکھے اور تین ہی حضرت اقدس نے لکھے۔فریقین کے پرچے الحق مباحثہ دہلی“ کے نام سے چھپے ہوئے ہیں اور مسئلہ حیات و وفات مسیح ناصری کی تحقیق کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔جو شخص بھی مباحثہ دہلی کو بغور پڑھے گا اس پر صاف کھل جائے گا کہ علماء کے ہاتھ میں حیات مسیح کو ثابت کرنے کے لئے کوئی قطعی دلیل نہیں نہ کوئی آیت اور نہ کوئی صحیح حدیث اور یہ مباحثہ اللہ کے فضل سے بہت لوگوں کی ہدایت کا باعث ثابت ہوا۔میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کو مناظرہ کا چوتھا چیلنج چونکہ میاں نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگردمولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر علماء دہلی نے ”حیات و وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کرنے سے انکار کیا اور میاں سید نذیرحسین صاحب نے بحث ٹالنے کے لئے بار بار یہی عذر کیا کہ آپ کا فر ہیں اور مسلمان نہیں تو آپ نے