حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 27
27 زمین پر تشریف لائیں گے۔اور ان کا فوت ہو جانا مخالف قرآن وحدیث قرار دے دیا ہے جس کی وجہ سے ہزار ہا مسلمانوں میں بدظنی کا فتنہ برپا ہوگیا ہے۔لہذا آپ پر فرض ہے کہ مجھ سے اس بات کا تصفیہ کر لیں کہ آیا ایسا عقیدہ رکھنے میں میں نے قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا ہے یا آپ ہی چھوڑ بیٹھے ہیں اور اس قدر تو میں خود مانتا ہوں کہ اگر میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا مخالف نصوص بینہ قرآن وحدیث ہے اور دراصل حضرت عیسی ابن مریم آسمان پر زندہ بجسده العنصری موجود ہیں جو پھر کسی وقت زمین پر اتریں گے تو گو یہ میرا دعویٰ ہزار الہام سے موئید اور تائید یافتہ ہو اور گونہ صرف ایک نشان بلکہ لاکھ آسمانی نشان اس کی تائید میں دکھاؤں تا ہم وہ سب بیچ ہیں کیونکہ کوئی امر اور دعوئی اور کوئی نشان مخالف قرآن اور احادیث صحیح مرفوعہ ہونے کی حالت میں قابل قبول نہیں۔اور صرف اس قدر مانتا ہوں بلکہ اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر آپ حضرت ایک جلسہ بحث مقرر کر کے میرے دلائل پیش کردہ جو صرف قرآن اور احادیث صحیحہ کی رو سے بیان کروں گا توڑ دیں اور ان سے بہتر دلائل حیات مسیح ابن مریم پیش کریں اور آیات صریحہ بینہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا بجسده العنصری زندہ ہونا ثابت کر دیں تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور تمام کتا ہیں جو اس مسئلے کے متعلق تالیف کی ہیں جس قدر میرے گھر میں موجود ہیں سب جلا دوں گا اور بذریعہ اخبارات اپنی توجہ اور رجوع کے بارے میں عام اطلاع دے دوں گا۔وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى كَاذِبِ يُخْفِي فِي قَلْبِهِ مَا يُخَالِفُ بَيَانَ لِسَانِهِ۔مگر یہ بھی یادر کھیئے کہ اگر آپ ہی مغلوب ہو گئے اور کوئی صریحہ الدلالت آیت اور حدیث صحیح مرفوع متصل پیش نہ کر سکے تو آپ کو بھی اپنے اس انکار شدید سے تو بہ کرنی پڑے گی۔وَاللهُ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۴۲۲۴۱) 66