حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 26
26 وفات و حیات مسیح کے بارہ میں ہرگز بحث نہ کریں گے۔یہ تو کافر ہے کیا کافروں سے بحث کریں؟ اس جلسہ میں خواجہ محمد یوسف صاحب رئیس وکیل آنریری مجسٹریٹ علیگڑھ بھی موجود تھے۔انہوں نے حضور سے کہا کہ یہ عقاید آپ کی طرف از راہ افتراء منسوب کئے جاتے ہیں تو مجھے ایک پرچہ پر یہ سب باتیں لکھ دیں۔چنانچہ آپ نے اپنے عقائد کے بارہ میں ایک پر چہ لکھ دیا اور خواجہ صاحب کو دے دیا جسے انہوں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلند آواز سے سنایا اور تمام معزز حاضرین جونزدیک تھے سن لیا۔الغرض شیخ الکل اپنی ضد سے باز نہ آئے اور حیات و وفات مسیح پر بحث کرنے سے انکار کرتے رہے۔تب سپر نٹنڈنٹ پولیس نے اس کشمکش سے تنگ آ کر اور لوگوں کی وحشیانہ حالت اور کثرت عوام کو دیکھ کر خیال کیا کہ بہت دیر تک انتظار کرنا اچھا نہیں۔لہذا عوام کی جماعت کو منتشر کرنے کیلئے حکم سنایا گیا کہ بحث نہیں ہوگی لہذا آپ چلے جائیں۔اس کے بعد پہلے مولوی نذیر حسین صاحب مع اپنے رفقاء کے مسجد سے باہر نکلے اور بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اصحاب نکلے۔مولوی نذیر حسین دہلوی کو مباحثہ کا تیسرا چیلنج اس کے بعد ۲۳ /اکتوبر ۱۸۹۱ء کو پھر حضرت اقدس نے مولوی نذیرحسین دہلوی کو بحث کرنے کیلئے درج ذیل اشتہار دیا۔”اے مولوی نذیر حسین صاحب! آپ نے اور آپ کے شاگردوں نے دنیا میں شور ڈال دیا ہے کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز دعوئی مسیح موعود ہونے میں مخالف قرآن و حدیث بیان کر رہا ہے۔اور ایک نیا مذ ہب و نیا عقیدہ نکلا ہے جو سراسر مغائر تعلیم اللہ و رسول اور یہ بداہت باطل ہے۔کیونکہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ بجسده العنصری آسمان پر اٹھائے گئے اور پھر کسی وقت آسمان پر سے