حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 25 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 25

25 قطعية الدلالت و احادیث صحیحہ متصله مرفوعه مجلس مباحثہ میں پیش کر دیں اور جیسا کہ ایک امر کو عقیدہ قرار دینے کیلئے ضروری ہے یقینی اور قطعی ثبوت صعود جسمانی مسیح ابن مریم کا جلسہ عام میں اپنی زبان مبارک سے بیان فرماویں تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار شرعی کرتا ہوں کہ فی آیت وفی حدیث پچپیس رو پیدان کی نذر کروں گا۔الناصح المشفق المشتهر المعلن مرزا غلام احمد قادیانی ( سرہند دہلی ) ۱۷ راکتو برا ۱۸۹ء ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۴۹٬۲۴۸) جامع مسجد دہلی میں مناظرہ اس اشتہار کے بعد ۲۰ / اکتوبر کو جامع مسجد دہلی میں انعقاد مجلس کا ہونا قرار پایا۔اور حفظ امن کیلئے پولیس کا بھی انتظام ہو گیا۔چنانچہ اس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام معہ اپنے بارہ اصحاب کے جامع مسجد دہلی بیچ کے محراب میں جا بیٹھے۔جامع مسجد میں اس روز ایک بے پناہ ہجوم تھا۔ایک سو سے زائد پولیس کے سپاہی اور ان کے ساتھ ایک یورپین افسر بھی آگئے۔پھر مولوی سید نذیر حسین صاحب مع مولوی بٹالوی صاحب تشریف لائے جنہیں ان کے شاگردوں نے ایک دالان میں جا بٹھایا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ الکل کو رقعہ بھیجا کہ مطابق اشتہارے ار اکتو بر مجھ سے بحث کریں یا قسم کھا لیں کہ میرے نزدیک مسیح ابن مریم کا زندہ بجسد عصری اٹھایا جانا قرآن وحدیث کے نصوص صریحہ قطعیہ بینہ سے ثابت ہے۔اس قسم کے بعد اگر ایک سال تک اس حلف دروغی کے اثر بد سے محفوظ رہیں تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔لیکن شیخ الکل صاحب نے دونوں طریقوں میں سے کسی کو منظور نہ کیا اور حیات و وفات مسیح پر بحث کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا اور اپنے آدمیوں کی معرفت سٹی مجسٹریٹ کو کہلا بھیجا کہ یہ شخص عقائد اسلام سے منحرف ہے۔جب تک یہ شخص اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کرے ہم