حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 259 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 259

259 و واقعات میں ذرہ برابر جھوٹ کی آمیزش نہیں ہے۔اس کے باوجود اگر کسی کو ان پیشگوئیوں کے متعلق کوئی شک ہو تو وہ بھی اس کے مقابل خدا کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے (یعنی حضرت اقدس ) جھوٹا بولا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں:۔” اور میں دوبارہ اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ذرہ ان واقعات میں تفاوت نہیں۔خدا موجود ہے اور جھوٹے کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے۔اگر میں نے جھوٹ بولا ہے یا میں نے ان قصوں کو ایک ذرہ کم و بیش کر دیا ہے تو نہایت ضروری ہے کہ ایسا ظن کرنے والے خدا کی قسم کے ساتھ اشتہار دیدے کہ میں جانتا ہوں کہ اس شخص نے جھوٹ بولا ہے یا اس نے کم و بیش کر دیا ہے اور اگر نہیں کیا تو ایک سال تک اس تکذیب کا وبال مجھ پر پڑے اور ابھی میں بھی قسم کھا چکا ہوں۔پس اگر میں جھوٹا ہوں گا یا میں نے ان قصوں کو کم و بیش کیا ہو گا تو اس دروغگو ئی اور افتراء کی سزا مجھے بھگتنی پڑے گی۔لیکن اگر میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے تب مکذب کو خدا بے سر انہیں چھوڑے گا۔یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور ہمیشہ سچائی کی مدد کرتا ہے۔اگر کوئی امتحان کیلئے اٹھے تو عین مراد ہے کیونکہ امتہان سے خدا ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا۔ہمارے مخالف مولویوں کے لئے بھی یہ موقع ہے کہ ان لوگوں کو اٹھاویں جیسا کہ آتھم کے اٹھا انے کیلئے کوشش کی تھی۔فیصلہ ہو جانا ہر ایک کیلئے مبارک ہے۔اس سے دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ خدا موجود د ہے بچوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔“ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۳ ۶۴ ) براہین احمدیہ میں درج شدہ تین اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بعض عینی شاہدین مخالف علماء کو قسم کھانے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔