حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 258
258 پر خدا کا عذاب نازل ہو۔آمین ولعنۃ اللہ علی الکاذبین۔“ ( قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴۳ ) حضرت اقدس کے اس بیان کی اشاعت پر لالہ شرمیت اور لالہ ملاوامل کے لبوں پر مہر سکوت لگ گئی۔اور ان کو یہ کسی طرح منظور نہ ہوا کہ وہ حضرت اقدس کی مطلوبہ قسم کے مقابلہ میں قسم کھاویں۔یا اس کا کوئی جواب دیں اور ان کے اس غیر معمولی رویہ نے ایک مرتبہ پھر اس امر کے صحیح اور درست ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ حضرت اقدس نے لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کو جو اپنے نشانات کا گواہ قرار دیا ہے اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں جن کا بار بار ذکر آیا ہے ، وہ ضرور ان نشانات کے گواہ تھے۔ورنہ ایسے نازک موقع پر جو انہیں حضرت اقدس کے قسم کھانے کے مطالبہ کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا کبھی خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔اس خاموشی کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ عذاب الہی سے محفوظ رہے۔لیکن اخبار شسمھ چپک“ کے تینوں کارندے جن کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے اپنی شوخی و شرارت میں بڑھ جانے کی وجہ سے طاعون کا شکار ہو گئے۔محترمی مرزا اسلام اللہ صاحب کا بیان ہے کہ پنڈت سومراج کو جب طاعون ہو گیا تو انہوں نے علاج کے لئے حضرت حکیم مولوی عبداللہ صاحب بسمل کو بلا بھیجا۔حکیم صاحب کے استفسار پر حضرت اقدس نے کہلا بھیجا کہ علاج ضرور کرو۔مگر یہ بچے گا نہیں۔چنانچہ علاج کرنے کے باوجود وہ اسی شام کومر گیا۔(الحکم ۱۰ اپریل ۱۹۰۷، صفحہ ۲۰ نمبر۱) پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا فیصلہ بذریعہ قسم کی تجویز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب "سراج منیر میں اپنی پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر قسم کھائی کہ ان پیشگوئیوں کے متعلق بیان کردہ حالات