حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 260 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 260

260 ’اب بتلاؤ کہ کیا یہ سچ نہیں کہ جیسے براہین احمدیہ میں تصریح اور تفصیل کے ساتھ تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ تینوں فتنے ظہور میں آگئے۔کیا محمد حسین بٹالوی یا سید احمد خان صاحب کے سی ایس آئی، یا نذیر حسین دہلوی یا عبدالجبار غزنوی یا رشید احمد گنگوہی یا محمد بشیر بھو پالوی یا غلام دستگیر قصوری یا عبداللہ ٹونکی پروفیسر لاہور یا مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ قسم کھا سکتے ہیں کہ یہ تین فتنے جن کا ذکر پیشگوئی کے طور پر براہین احمدیہ میں کیا گیا ہے ظہور میں نہیں آگئے۔اگر کوئی صاحب ان صاحبوں میں سے میرے الہام کی سچائی کے منکر ہیں تو کیوں خلقت کو تباہ کرتے ہیں۔میرے مقابل پر قسم کھا جائیں کہ یہ تینوں فتنے جو براہین احمدیہ میں بطور پیشگوئی ذکر کئے گئے ہیں یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور اگر پوری ہو گئی ہیں تو اے خدائے قادر اکتالیس دن تک ہم پر وہ عذاب نازل کر جو مجرموں پر نازل ہوتا ہے۔پس اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ اور بلا واسطہ کسی انسان کے وہ عذاب جو آسمان سے اترتا اور کھا جانے والی آگ کی طرح کذاب کو نابود کر دیتا ہے اکتالیس روز کے اندر نازل نہ ہوا تو میں جھوٹا اور میرا تمام کاروبار جھوٹا ہوگا اور میں حقیقت میں تمام لعنتوں کا مستحق ٹھہروں گا۔اور اگر وہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے اس قسم کی پیشگوئیاں جن کو خود بیان کر نیوالینے اپنی تحریروں اور چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے مخالفوں اور موافقوں میں پیش از وقت شائع کر دیا ہو اور اپنی عظمت میں میری پیشگوئیوں کے مساوی ہوں۔اس زمانہ میں دکھاویں۔جن میں الہی قوت محسوس ہوتب بھی میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔اور قسم کے لئے ضروری ہوگا کہ جو صاحب قسم کھانے پر آمادہ ہوں وہ قادیان میں آ کر میرے روبرو قسم کھاویں میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا۔یہ دین کا کام ہے۔پس جو لوگ باوجود مولویت کی لاف کے اس میں ستی کریں تو خود