حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 247 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 247

247 خیال کرتے ہیں۔صفائی اور یقین اور بداہت کے مرتبہ پر زیادہ ثابت کر سکے تو میں اس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں۔مگر ثابت کرنے کا یہ طریق نہیں ہوگا کہ وہ قرآن شریف کو پیش کرے کہ قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی مان لیا ہے اور یا اس کو نبی قرار دے دیا ہے کیونکہ اس طرح پر تو میں اور بھی زور سے دعوی کرتا ہوں کہ قرآن شریف میری سچائی کا بھی گواہ ہے۔“ ( تذكرة الشہا دتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۳ ۴۴ ) آریہ پنڈتوں اور عیسائی پادریوں کو پیشگوئیوں کے مقابلہ کی دعوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف اپنے مسلمان مکفر وں اور مکذبوں کو پیشگوئیوں کے ذریعہ اپنے صدق و کذب کو جانچنے کی دعوت دی بلکہ آریہ پنڈتوں اور عیسائی پادریوں کو بھی مقابلہ کی دعوت دی۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔” یہ اشتہار اتمام حجت کی غرض سے بمقابل منشی جیوند اس صاحب جو آریوں کی نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورمنتی صاحب کا ہیں اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرت عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عماد الدین لانبر صاحب امرتسری اور پادری ٹھا کر داس صاحب مولف کتاب اظہار عیسوی کو شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہور ہیں اور برابر حاضر رہیں۔پس اس عرصہ میں اگر ہم