حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 248 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 248

248 کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہو ر وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کر دکھلا دیں تو مبلغ پانچ سور و پیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیره به پایه صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا نا جائز اور غیر مسلم ہوگا بلکہ سیدھا راه شناخت پیشگوئی کا یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ کے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کر کے دکھلا دیں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر ہوگی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہر حال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبین میں تحریر ہو کر انعقاد پا جائیں گی۔چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنی ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے۔اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کر گئے۔والسلام علی من اتبع الھدی۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۰۹ ،۳۱۰) میاں فتح مسیح کارد عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا پیشگوئیوں کے مقابلہ کے چیلنج کے بعد ایک عیسائی عالم میاں فتح مسیح ۱۸ اگست ۱۸۸۸ء بروز جمعہ بمقام بٹالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا اور حضرت اقدس کے ساتھ پیشگوئیوں میں مقابلہ پر آمادگی کا اظہار کیا۔اور