حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 246
246 سے فرض کر کے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ جب بعض پیشگوئیاں جھوٹی ہیں یا اجتہادی غلطی ہے تو پھر مسیحیت کے دعوئی کا کیا اعتبار شاید وہ بھی غلط ہو۔اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔اور مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کیلئے قادیان میں آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رو سے جھوٹی ثابت ہو ایک ایک سو روپیہ ان کی نذر کریں گے۔ورنہ ایک خاص تمغہ لعنت کا ان کے گلے میں رہے گا۔اور ہم آمد ورفت کا خرچ بھی دیں گے۔اور کل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی۔تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جاوے۔اور اسی شرط سے روپیہ ملے گا اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔یادر ہے کہ رسالہ نزول امیج میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی۔بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی معہ ثبوت ان کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق فی پیشگوئی سو روپیہ دیتے جائیں گے۔اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کیلئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا وہ سب ان کی نذرہوگا۔“ نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۳۱ ۱۳۲۰) میں یہ بات حتمی وعدہ سے لکھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف خواہ عیسائی خواہ بگفتن مسلمان۔میری پیشگوئیوں کے مقابل پر اس شخص کی پیشگوئیوں کو جس کا آسمان سے اترنا