حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 144 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 144

144 بعض الاقاویل میں بیان فرمودہ شرائط کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں تا کہ واضح ہو جائے کہ ایسے لوگوں کی مثالیں اس چیلنج کے بالمقابل پیش نہیں کی جاسکتیں۔سورۃ الحاقہ رکوع ۲ کی جن آیات کریمہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی صداقت کا استدلال فرمایا ہے ان آیات میں جن شرائط کا ذکر کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہیں :۔اول : لفظ تقول باب تفعل سے ہے جس میں تکلف اور بناوٹ پائی جاتی ہے۔اس لئے مدعی نبوت والہام کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں تکلف اور تعمد سے کام لے۔مجنون اور دیوانہ اس آیت کی زد میں نہیں آ سکتے کیونکہ اس کا قول وفعل تعمد کی بنا پر نہیں ہوتا اور شریعت اسلامی میں بھی مجنون قابل مواخذہ نہیں ہے۔دوم۔وہ مدعی ہستی باری تعالیٰ کا قائل ہو اور اس کے علیحدہ وجود کا اقراری ہو اور اپنی باتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہو۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہی قائل نہیں یا محض اپنی باتوں کو الہام سے تعبیر کرتے ہیں وہ اس آیت کی زد سے باہر ہوں گے جیسا کہ آیت کا لفظ علينا‘صاف بتا رہا ہے۔سوم:۔ایسے مدعی کیلئے از روئے آیت قرآنی چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے اس دعوی کو علی الاعلان پیش کرے اور لوگ اس کی باتوں کے باعث گمراہ ہوتے ہوں۔اگر وہ اس دعوے کو چھپاتا ہے یا تحدی کے ساتھ پیش نہیں کرتا یا لوگ اس کے باعث فتنہ میں نہیں پڑتے تو وہ مدعی بھی اس سزا کے نیچے نہ آئے گا۔پنجم :۔ایسا شخص مدعی الوہیت نہ ہو۔گویا خدا تعالیٰ کو اپنے وجود سے الگ ہستی خیال کرنے والا ہو۔مدعی الوہیت کیلئے قرآن کریم میں الگ سزا کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایسے شخص کے متعلق فرماتا ہے: وَ مَنْ يَّقُلُ مِنْهُمُ إِنِّى إِلهُ مِنْ دُونِهِ فَذلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمُ كَذَالِكَ نَجْزِئُ