حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 145 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 145

145 الظَّالِمِينَ (انبياء رکوع ۲) کہ جو شخص کہے کہ میں خدا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیتے ہیں۔ایسے ظالموں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔پس اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ مدعی الوہیت کیلئے ضروری نہیں کہ اسے اس دنیا میں سزادی جائے۔بلکہ یہ کا ذب مدعی نبوت کیلئے اللہ تعالیٰ نے لازمی اور ضروری قرار دیا ہے کہ اسے اسی دنیا میں سزادی جائے کیونکہ کوئی انسان خدا نہیں ہوسکتا اور الوہیت کا دعوی عظمندوں کو دھو کے میں نہیں ڈال سکتا۔مگر نبی چونکہ انسان ہی ہوتے ہیں اس لئے ان سے دوسرے لوگوں کو دھوکا لگنے کا امکان ہے۔اس لئے خدا اسی دنیا میں اس کو سزادیتا ہے۔چنانچہ علامہ ابوحمد ظاہری نے بھی اپنی کتاب "الفصل فی الملل و الاهواء و النحل “ میں لکھا ہے:۔و مدعى الربوبيت فى نفس قوله بيان كذبه قالوا فظهور الاية عليه ليس موجبا بضلال من له عقل واما مدعى النبوة فلا سبيل الى ظهور الايات عليه لانه يكون مضلا لكل ذي عقل (الفصل في الملل و الاهواء و النحل جلد ۱ صفحه ۱۰۹) یعنی مدعی الوہیت کا دعوی ہی خود اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔اس لئے اس سے کسی نشان کا ظہور کسی صاحب عقل کو گمراہ نہیں کرسکتا۔مگر کاذب مدعی نبوت سے نشان ظاہر نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ہر صاحب عقل کو گمراہ کرنے کا باعث ہوگا۔گویا خدا تعالیٰ نے ہر دو دعووں کے مدعیوں کی سزا میں فرق رکھا ہے۔پس ایک دوسرے پر قیاس کرنا غلطی ہے۔لہذا لو تَقَول کے مطالبہ پر فرعون یا بہاء اللہ کے نام پیش کرنا غلطی۔آیت لَوْ تَقَوَّلَ میں بیان فرمودہ شرائط کو بیان کرنے کے بعد اب ان مدعیان کی حقیقت کو پیش کیا جاتا ہے جن کو مخالفین نے حضرت مسیح موعود کے چیلنج کے بالمقابل پیش کیا۔ہے۔