حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 143 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 143

143 اس اشتہار کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ الندوہ کے نام سے ایک رسالہ شائع فرمایا جس میں حافظ صاحب کے اشتہار پر انتہائی عالمانہ تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا۔” حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان نبوت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھیں گئی ہیں وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوے پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی۔اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہوسکتا ہے جب تک اسی زمانہ کی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی افتراء اور جھوٹے دعوی نبوت پر مرے اور ان کا اس وقت کسی اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہوسکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ان کی تمام عمر کے مفتریات جن کو انہوں نے بطور افتراء خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں اور ایسی کتاب ان کی وحی کس کس کے پاس ہے تا اس کتاب کو دیکھا جائے کہ کیا انہوں نے کبھی کسی قطعی یقینی وحی کا دعوی کیا اور اس بنا پر اپنے تئیں ظلی طور پر یا اصلی طور پر نبی اللہ ٹھہرایا ہے اور اپنی وحی کو دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وحی کے مقابل پر منجانب اللہ ہونے میں برابر سمجھا ہے۔تقول کے معنے اس پر صادق آئیں۔حافظ صاحب کو معلوم نہیں کہ تقول کا حکم قطع اور یقین کے متعلق ہے۔“ تحفہ الندوہ۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۹۵) تقریباً سو سال گزرنے کے باوجود مخالفین کو اس چیلنج کو توڑنے والی ایک مثال بھی پیش کرنے کی توفیق نہیں مل سکی۔قبل اس کے کہ رسالہ "قطع الوتین" اور بعض دیگر مخالفین کی کتب میں پیش کردہ جھوٹے مدعیان نبوت پر الگ الگ بحث کر کے ان کا بطلان ثابت کریں، پہلے آیت لـو تـقــول عـلينـا