حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 114 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 114

114 میں اعجاز المسیح تھی اور دوسری شمس بازغہ جن پرمحمد حسن متوفی کے نوٹ لکھے ہوئے تھے اور اتفاقاً اس وقت کتاب سیف چشتیائی بھی میرے پاس موجود تھی۔جب میں نے ان کے نوٹس کا اس کتاب سے مقابلہ کیا تو جو کچھ حمد حسن نے لکھا تھا بغیر کسی تصرف کے پیر مہر علی شاہ کی کتاب وہی مسروقہ نوٹ ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پس مجھ کو اس سرقہ اور خیانت سے سخت حیرت ہوئی کہ کس طرح اس نے ان تمام نوٹوں کو اپنی طرف منسوب کر دیا۔یہ ایسی کارروائی تھی کہ اگر مہر علی شاہ کو کچھ شرم ہوتی تو اس قسم کے سرقہ کا راز کھلنے سے مرجاتا نہ کہ شوخی اور ترک حیا سے اب تک دوسرے شخص کی تالیف کو جس سے اس کی جان گئی اپنی طرف منسوب کرتا اور بد قسمت مردہ کی تحریر کی طرف ایک ذرہ بھی اشارہ نہ کرتا۔(ملخص از نزول المسیح صفحہ ۴۲۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۴۵) اس کے بعد حضرت اقدس نے میاں شہاب الدین کے دو خط نقل فرمائے ہیں جن میں سے ایک تو حضرت اقدس کے اور دوسرا حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے نام ہے۔ان دونوں خطوط میں اس نے وہ تمام باتیں لکھی ہیں جن کا اوپر حضرت اقدس نے ذکر فرمایا ہے۔حضرت اقدس اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب دونوں نے میاں شہاب الدین کو لکھا کہ وہ دونوں کتا ہیں یعنی اعجاز امسیح اور شمس بازغہ جن پر مولوی محمد حسن فیضی متوفی کے دستخطی نوٹ موجود ہیں خرید کر ساتھ لے آؤ۔اس کے جواب میں میاں شہاب الدین نے لکھا کہ:۔آپ کا حکم منظور لیکن محمد حسن کا والد کتا بیں نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ میرے رو برو بے شک دیکھ لو مگر مہلت کے واسطے نہیں دیتا۔خاکسار معذور ہے۔کیا کرے۔دوسری مجھ سے ایک غلطی ہوگئی کہ ایک خط گولڑوی کو لکھا کہ تم نے خاک لکھا کہ جو کچھ محمد حسن کے نوٹ تھے وہی درج کر دئیے اس واسطے گولڑوی نے محمد حسن کے والد کو لکھا ہے کہ ان کو کتابیں مت دکھاؤ۔کیونکہ یہ شخص ہمارا مخالف ہے۔اب مشکل بنی کہ محمد حسن کا والد گولڑوی کا مرید ہے اور اس کے کہنے پر چلتا ہے۔مجھ کو نہایت افسوس