حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 109 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 109

109 اجازت ہے کہ اپنے ہم مشرب علماء کو ساتھ ملالیں یا اپنی مدد کے لئے عرب سے ایک گروہ ادیبوں کا بلا لیں یا اپنی قوم کے صلحاء سے اس مہم کے سر کرنے کے لئے ہمت اور دعا بھی طلب کر لیں۔پس یہ میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ لوگ جان لیں کہ یہ سب جاہل ہیں۔ان میں سے نہ ایک شخص اس کام کی طاقت رکھتا ہے نہ سب مل کر ایسا کر سکتے ہیں۔اور یہ عذر درست نہیں کہ یہ کہا جائے کہ یہ شخص یعنی پیر صاحب جن کو مقابلہ کے لئے بلایا گیا ہے گذشتہ دنوں میں تو عالم تھے مگر اب ان کا علم برف کی طرح پکھل کر کالعدم ہو گیا ہے۔اور دھول ونسیان کی مکڑیوں نے اس پر جالے بن دیئے ہیں۔پھر بڑی شوکت سے آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ:۔الحق والحق اقول ان هذا كلام كانه حسام - و انه قطع كل نزاع و ما بقى بعد خصام و من كان يظن انه فصيح و عنده کلام کانه بدر تام۔فليات بمثله و الصمت عليه حرام و ان اجتمع اباء هم و ابناء هم۔و اكفاء هم و علماء هم و حکماء هم و فقهاء هم ـ على ان ياتو بمثل هذا التفسير - في هذا المدى القليل الحقير - لا ياتون بمثله و لو كان بعضهم لبعض كالظهير - فانی دعوت لذالک و ان دعائی مستجاب۔فلن تقدر على جوابه كذا ـ لا شيوخ و لا شاب ـ و انه كنز المعارف و مدينتها ـ و ماء الحقائق و طينتها “ اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۷،۵۶) کہ یہ حقیقت ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ یہ کلام ایک شمشیر بڑاں ہے جس نے ہر جھگڑنے والے کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔لہذا اب کوئی مد مقابل باقی نہیں رہا۔پس جو یہ سمجھتا ہے کہ فصیح البیان ہے اور اس کا کلام چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا ہے تو اس