حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 107 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 107

107 کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح و بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر 1900ء کی پندرہ تاریخ سے ستر دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئیں۔تب اہل علم خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے اور اگر اہل علم میں سے تین کس جو ادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کی رُو سے اور کیا معارف قرآنی کی رو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز 66 بیان کر کے روتے ہیں کہ ناحق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔“ اسی اشتہار میں آگے چل کر حضور لکھتے ہیں کہ :۔ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلالیں۔بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چار جزو سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ دسمبر ۰ ۱۹۰ء تک جو ستر دن ہیں فریقن میں سے کوئی فریق تفسیر سورۃ فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی 66 حاجت نہیں رہے گی۔“ ( از اشتہار ۱۵ دسمبر ۰ ۱۹۰ء بعنوان پیر مہر علی شاہ گولڑوی مطبوعہ انوار احمدی لاہور )