حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 106
106 کا اشتہار بھی لاہور میں ان کی خدمت میں پیش نہ کیا جاسکا۔ناچار اشتہار کی تین کا پیاں رجسٹری کروا کر انہیں گولڑ بھجوائی گئیں اور ساتھ ہی لکھا گیا کہ وہ اس قسم کے مقابلہ میں شامل ہونے کیلئے لا ہور تشریف لے آویں تو انہیں سیکنڈ کلاس کا کرایہ اور ان کے دو خادموں کیلئے انٹر کلاس کا کرایہ پیش کیا جائے گا۔مگر انہوں نے جواب ہی نہ دیا اور جو غلط نہی اور اشتعال پبلک میں پھیلا چکے تھے اسی پر نازاں ومسرور تھے۔مقابلہ کی ایک نئی تجویز جب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی تفسیر نویسی میں مقابلہ کیلئے کسی طرح بھی آمادہ نہ ہوئے تو حضرت اقدس نے ان پر حجت پوری کرنے کیلئے ایک اور تجویز ان کے سامنے پیش کی اور وہ یہ تھی " آج میرے دل میں ایک تجویز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی۔کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں۔یہ جواب دیتا ہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم و معارف قرآن اور عربی کی ادب اور فصاحت اور بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گذرا۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعوی کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورۃ ممدوحہ کے بھی بیان کروں۔اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت