حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 60 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 60

60 بھی بغیر جواب کے نہیں چھوڑا گیا۔حضرت بانی سلسلہ کے ایک نامور مرید حضرت مولانا نورالدین صاحب نے جو بعد میں آپ کے خلیفہ قرار پائے ” تصدیق براہین احمدیہ کے نام سے اس کا جواب شائع کیا ہے جو قابل تحسین ہے۔ایک برہمو سماجی لیڈر دیونندرناتھ سہائے اس چیلنج کے متعلق لکھتے ہیں۔"برہمو سماج کی تحریک ایک زبردست طوفان کی طرح اٹھی اور آنا فانا نہ صرف ہندوستان بلکہ غیر ممالک میں بھی اس کی شاخیں قائم ہوگئیں۔بھارت میں نہ صرف ہندو اور سکھ ہی اس سے متاثر ہوئے بلکہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔۔۔عین ان ہی دنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو مسلمانوں کے ایک بڑے عالم تھے ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف کتابیں لکھیں اور ان کو مناظرے کیلئے چیلنج دیا۔افسوس ہے کہ بر ہمو سماج کے کسی ودوان نے اس چیلنج کی طرف توجہ نہیں کی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ مسلمان جو کہ بر ہمو سماج کی تعلیم سے متاثر تھے نہ صرف پیچھے ہٹ گئے بلکہ با قاعدہ بر ہموسماج میں داخل ہونے والے مسلمان بھی آہستہ آہستہ اسے چھوڑ گئے۔(ہندی سے ترجمہ) ނދގޫ سرمه چشم آرید (رسالہ کو مدی کلکته اگست ۱۹۲۰ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کتاب ۱۸۸۶ء میں لالہ مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر رکن آریہ سماج ہوشیار پور کے ساتھ ایک مذہبی مباحثہ کے بعد لکھی جس میں معجزہ شق القمر، نجات دائمی ہے یا محدود، روح و مادہ حادث ہیں یا انا دی۔اور مقابلہ تعلیمات وید و قرآن پر مفصل بحث کی گئی ہے اور اس کتاب کا رڈ لکھنے والے کو مبلغ پانچ صدر و پیدا انعام دینے کا چیلنج بھی دیا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔