حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 59 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 59

59 پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار تو ڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آ گیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۷۲ ۷۳ ) براہین احمدیہ کے چیلنج کارڈ عمل اس چیلنج کے جواب میں بعض مخالفین اسلام نے اس کتاب کا رڈ لکھنے کے پُر جوش اعلانات کئے جس پر آپ نے فورا لکھا کہ:۔سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں افلاطون بن جاویں بیکن کا اوتار دھار میں ارسطو کی نظر اور فکر لاویں اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے الہہ باطلہ۔(براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۷،۵۶) ایسے موقع پر عیسائیوں، آریہ سماجیوں، اور برہموسماجیوں کا فرض تھا کہ وہ اس کتاب کے جواب میں اپنی طرف سے کوئی کتاب شائع کرتے۔مگر سوامی دیانند صاحب بھی جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد تین برس تک زندہ رہے بالکل خاموش ہی رہے۔اور بر ہموسما جیوں نے بھی چُپ ہی سادھ لی۔البتہ آریہ سماج پشاور کے ایک مشہور شخص پنڈت لیکھرام نامی نے جو بعد میں آپ کے مقابلہ میں آکر ہمیشہ کیلئے آریہ دھرم کی شکست پر مہر لگا کر اس دنیا سے رخصت ہوا ایک کتاب " تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے شائع کی۔۔جن لوگوں کو پنڈت مذکور کی تحریرات دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس تحریر میں سوائے سب وشتم اور ہنزلیات کے اور کچھ نہیں تھا۔یہ کتاب بھی جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ایسی ہی لایعنی باتوں کا مجموعہ تھی مگر اسے