حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 61 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 61

61 یہ کتاب یعنی سرمه چشم آریہ تقریب مباحثہ لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو عقائد باطلہ وید کی بکلی بیخ کنی کرتی ہے اس دعوئی اور یقین سے لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا ر ڈ نہیں کرسکتا کیونکہ سچ کے مقابل پر جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رڈ کئے گئے ہیں سچ سمجھتا ہے اور اب بھی دید اور اس کے ایسے اصولوں کو ایشرکرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو اسی ایشر کی قسم ہے کہ اس کتاب کا رڈ لکھ کر دکھلاوے اور پانسور و پیدا انعام پاوے۔(سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۲۱) تحفہ گولڑویہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کتاب ۱۹۰۰ء میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہم خیال لوگوں پر اتمام حجت کی غرض سے تالیف فرمائی جس میں آپ نے اپنے دعوی کی صداقت پر زبردست دلائل دیئے اور نصوص قرآنی وحدیثیہ سے ثابت کیا کہ آنے والے مسیح موعود کا امت محمدیہ میں ظاہر ہونا ضروری تھا اور اس کے ظہور کا یہی زمانہ تھا جس میں اللہ تعالی نے مجھے مبعوث فرمایا ہے۔حضرت اقدس نے اس کتاب کا رڈ لکھنے والے کو پچاس ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔اشتہار انعامی پچاس روپیه میں یہ رسالہ لکھ کر اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر وہ اس کے مقابل پر کوئی رسالہ لکھ کر میرے ان تمام دلائل کو اول سے آخر تک توڑ دیں۔اور پھر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایک مجمع بٹالہ میں مقرر کر کے ہم دونوں کی حاضری میں میرے تمام دلائل ایک ایک کر کے حاضرین کے سامنے ذکر کریں اور پھر ہر ایک دلیل