حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 379 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 379

379 آخر کار خدائی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ کا غضب اور قہر اس پر عین اس وقت فالج کا حملہ ہوا جبکہ وہ اپنے عالی شان و خوبصورت شہر صحون میں ہزاروں کے مجمع کو مخاطب کر رہا تھا اور اپنے شہر کے مالی بحران کو دور کرنے کے لئے میکسیکو میں کوئی بہت بڑی جائداد خریدنے کا منصوبہ اپنے مریدوں کے سامنے رکھ رہا تھا تا کہ ان سے قرضہ حاصل کر کے وہ منصوبہ مکمل کرے۔چنانچہ دوران تقریر ہی خدائے منتقم اور قادر و قیوم نے اسکی اس زبان کو بند کر دیا جس سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی کیا کرتا تھا۔آخر اس نے بحالی صحت کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے شہر بہ شہر پھر کر علاج کرواتا رہا مگر جس شخص کو وہ صیحون میں اپنا نائب مقرر کر گیا تھا اسی نے بعد میں اعلان کر دیا کہ ڈوئی چونکہ غرور تعلی فضول خرچی اور عیاشی اور لوگوں کے پیسوں پر تعیش کی زندگی بسر کرنے کا مجرم ہے اس لئے اب وہ ہمارے چرچ کی قیادت کرنے کے قطعاً نااہل ہے۔صحون شہر اور اس کی رونق بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگی اور ڈوئی پر کئی لاکھ روپے کے غبن کا الزام لگایا گیا۔اور چرچ سے اس کو کلیۂ بے دخل اور علیحدہ کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں اس کی صحت دن بدن اور بھی خراب ہوتی چلی گئی اور بقول اس کے ایک مرید مسٹر لنڈ ز کے ان دنوں میں نہ صرف فالج بلکہ دماغی فتور اور کئی بیماریوں کا شکار ہو گیا۔بیماری کے دنوں میں اسے نہ صرف اس کے مریدوں بلکہ اس کے اہل وعیال نے بھی اسے چھوڑ دیا ور صرف دو تنخواہ دار حبشی اس کی دیکھ بھال کرتے اور ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جاتے تھے۔جس کے دوران اس کے پتھر جیسا بھاری جسم کبھی کبھی ان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر جا گرتا تھا۔ڈوئی اس قسم کی ہزاروں مصیبتیں سہتا ہوا آخر اور مارچ ۱۹۰۷ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق نہایت ذلت کی حالت میں اس جہان سے رخصت ہوا۔تمام پادریوں اور عیسائیوں کو مباہلہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد اللہ آتھم کی موت کے متعلق جو پیشگوئی کی اس کے پورا