حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 378 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 378

378 ہے۔لیکن میں نے اپنی عمر کی کچھ پروا نہیں کی کیونکہ مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ خدا جو احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا اور اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقینا سمجھو کہ اس کے صیہون پر جلد تر آفت آنے والی ہے۔“ (اشتہار ۲۳ /اگست ۱۹۰۳ ء ریویو آف ریلیجنز اردو ا پریل ۱۹۰۷ ، صفحه ۱۴۴،۱۴۳) مسیح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کا تذکرہ امریکہ کے بہت سے اخبارات میں ہوا۔جن میں سے ۲۳ /اخبارات کے مضامین کا خلاصہ حضرت اقدس نے تمہ حقیقۃ الوحی میں درج فرمایا ہے۔آخر جب پبلک نے ڈوئی کو بہت تنگ کیا اور جواب دینے پر مجبور کر دیا تو اس نے اپنے اخبار کے دسمبر کے پرچے میں لکھا کہ۔ہندوستان کا ایک بے وقوف محمدی مسیح مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشم۔میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو کیوں اس شخص کو جواب نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب ڈوئی کی اس گستاخی اور بے ادبی اور شوخی و شرارت کی اطلاع ملی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس فیصلہ میں کامیابی کے لئے زیادہ توجہ اور الحاح سے دعائیں کرنا شروع کر دیں۔اس دوران ڈاکٹر ڈوئی امریکہ و یوروپ میں بہت شہرت اور ناموری حاصل کرتا جارہا تھا اور صحت کے لحاظ سے بھی وہ بھرے جلسوں میں اکثر اپنی شاندار صحت اور جوانی اور عروج پر فخر کیا کرتا تھا۔مگر اسلام کا خدا اسے تمام دنیا میں مشہور کرنے کے بعد ذلیل ورسوا کرنا چاہتا تھا تا دنیا کو پتہ لگ جائے کہ خدا کے ماموروں کے مقابلہ پر آنے والوں کا خواہ وہ کتنی ہی عظیم شخصیت کے مالک ہوں کیا حشر ہوتا ہے۔