حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 380
380 نہ ہونے کے متعلق عیسائیوں نے کافی پرو پیگنڈا کیا۔چنانچہ حضرت اقدس نے عبداللہ آتھم کی وفات کے بعد ایک کتاب انجام آتھم لکھی اور اس کتاب میں آتھم کے متعلق پیشگوئی کے پورا ہونے کے عقلی و نقلی دلائل دینے کے بعد فرمایا۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ آتھم کے معاملہ میں کسی پادری صاحب یا کسی اور عیسائی کو شک ہو اور خیال کرتا ہو کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو لازم ہے کہ مجھ سے مباہلہ کرے۔غرض ہر ایک فریق ہم میں سے اور عیسائیوں میں سے دعا کرے اس طرح پر کہ اول ایک فریق یہ دعا کرے اور دوسرا فریق آمین کہے اور پھر دوسرا فریق دعا کرے اور پہلا فریق آمین کہے اور پھر ایک سال تک خدا کے حکم کے منتظر رہیں اور میں اس وقت اقرار صالح شرعی کرتا ہوں کہ ان دونوں مباہلوں میں دو ہزار رو پیدان عیسائیوں کیلئے جمع کرا دوں گا جو میرے مقابل پر مباہلہ کے میدان میں آویں گے یہ کام نہایت ضروری ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ زندہ اور قادر خدا ہمارے ساتھ ہے عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۳۳۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی اسی کتاب ”انجام آتھم میں مزید آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نومیدی ہو چکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے جاتے ہیں ویسے ہی کینے بھی ساتھ ترقی پکڑتے جاتے ہیں۔سو اس نو امیدی کے وقت میں میرے نزدیک ایک نہایت سہل و آسان طریقے فیصلہ ہے۔اگر پادری صاحبان قبول کر لیں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے۔اور ربانی فیصلہ کیلئے طریق