حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 348 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 348

348 سید رشید الدین صاحب کی تصدیق دوسرے سجادہ نشین سید رشید الدین صاحب العلم سندھی تھے۔جنہوں نے آپ کی تصدیق کی۔انہوں نے بھی حضرت اقدس کو عربی زبان میں خط لکھا جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:۔میں نے رسول اللہ ﷺ کو عالم کشف میں دیکھا۔پس میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ( ) شخص جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے کیا یہ جھوٹا ہے یا مفتری ہے یا صادق ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ صادق ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ آپ حق پر ہیں۔اب بعد اس کے ہم آپ کے امور میں شک نہیں کریں گے۔اور آپ کی شان میں ہمیں کچھ شبہ نہیں ہوگا اور جو کچھ آپ فرمائیں گے ہم وہی کریں گے۔پس آپ اگر یہ کہو کہ ہم امریکہ میں چلے جائیں تو ہم وہیں جائیں گے۔اور ہم نے اپنے تئیں آپ کے حوالہ کر دیا ہے اور انشاء اللہ ہمیں وفادار پاؤ گے۔(بحوالہ ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد نمبر اصفحہ ۶۰) مولوی غلام دستگیر قصوری سے مباہلہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے حضرت مسیح موعود کے مباہلہ کے چیلنج کے بعد ۱۸۹۷ء میں حضرت اقدس کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔مگر ساتھ ہی یہ شرط لگا دی کہ اگر مرزا صاحب بچے ہیں تو عین میدان مباہلہ میں ہی مجھ پر عذاب نازل ہونا چاہیے۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں ۱۵ جنوری ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ مباہلہ کا مسنون طریق وہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے وقت اختیار کیا تھا۔اور وہ یہ تھا کہ اگر وہ مقابلہ پر آتے تو ایک سال کے اندر اندر ہلاک ہو جاتے۔ظاہر ہے کہ مباہلہ کا یہ ایک مسنون طریق تھا جس کی