حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 349
349 اتباع مولوی غلام دستگیر قصوری کے لئے واجب تھی۔مگر انہوں نے اس مسنون طریق سے انحراف اختیار کیا۔مگر حضرت مسیح موعود نے مباہلہ کے اسی مسنون طریق اور اپنے الہام کے موافق مولوی غلام دستگیر قصوری کو درج ذیل چیلنج دیا۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے الہام کے موافق ایک سال کا وعدہ کرتا ہوں۔اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ وعدہ خلاف سنت ہے تو کوئی ایسی صحیح حدیث پیش کریں جس سے سمجھا جائے کہ فوری عذاب مباہلہ کیلئے شرط ضروری ہے۔یعنی یہ کہ فوراً کا ذب یا مکذب کے صدق کا اثر فریق ثانی پر ظاہر ہو۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۹۸) مگر مولوی غلام دستگیر صاحب کو مذکورہ چیلنج کے مطابق کوئی حدیث پیش کرنے کی توفیق نہ مل سکی مگر اس کے باوجود اس مسنون طریق سے انحراف اختیار کر کے اپنے لئے ہلاکت کی ایک اور راہ تجویز کر لی اور وہ یہ کہ انہوں نے ۱۳۱۵ ہجری میں ایک کتاب ” فتح رحمانی ، لکھی۔جس میں تجویز کیا کہ:۔وو اللهم يا ذا الجلال والاکرام یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مجمع البحار کی دعا اور سعی سے اُس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑہ غرق کیا۔( جو ان کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا ) ویسا ہی دعا اور التجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ کی ہے۔جو بچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع مساعی ہے۔کہ تو مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو تو بہ النصوح کی توفیق فرما اور اگر یہ مقدر نہیں تو اُن کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا۔فـقـطـع دابــر الــقــوم الــذيــن ظلموا والحمد لله رب العلمین۔انک علی کل شئی قدیر۔وبا الاجابة جديرامین۔یعنی جو لوگ ظالم ہیں وہ جڑ سے کاٹے جائیں گے۔اور خدا۔گے۔اور