حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 347 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 347

347 حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کا جواب اس مباہلہ کے چیلنج کے جواب میں اور تو کسی عالم یا سجادہ نشین نے تصدیق یا تکذیب کی جرات نہ کی البتہ نواب صاحب آف بہاولپور کے پیر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف نے عربی زبان میں ایک خط آپ کی خدمت میں لکھا جس کے ایک حصہ کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کے لئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر چہ میں عدیم الفرصت تھا۔تاہم میں نے اس کتاب کے ایک جزو کو جوحسن خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھا پڑھا ہے۔سواے ہر ایک حبیب سے عزیز تر۔تجھے معلوم ہو کہ میں ابتداء سے تیرے لیے تعظیم کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو اور کبھی میری زبان پر بجر تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔اور اب میں مطلع کرتا ہوں کہ بلا شبہ تیرے نیک حال کا معترف ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عند اللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے۔میرے لئے عاقبت بالخیر کی دعا کر اور میں تیرے لیے انجام خیر وخوبی کی دعا کرتا ہوں۔" ( ترجمه عربی خط بحواله انجام آتھم صفحه ۱۳۲۳ تا۳۲۴) حضرت میاں غلام فرید صاحب کے اس خط کو دیکھ کر حضرت اقدس بہت خوش ہوئے اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج فرمایا اور دوسرے سجادہ نشینوں کو بھی تلقین فرمائی کہ میاں غلام فرید صاحب کے نمونہ پر چلیں۔