حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 306
306 نہیں کیونکہ جب موجودہ زمانہ کو خدا تعالیٰ کوئی جدید نشان دکھلائے گا تو یہ تو نہیں ہوگا کہ وہ کوئی پچاس ساٹھ سال مقرر کر دے بلکہ کوئی معمولی مدت ہوگی جو مدالت کے مقدمات یا امور تجارت وغیرہ میں بھی اہل غرض اسکو اپنے لئے منظور کر لیتے ہیں۔اس قسم کا تصفیہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب دلوں سے بکتی فساد دور کئے جائیں اور در حقیقت آپ لوگوں کا ارادہ ہو جائے کہ خدا کی گواہی کے ساتھ فیصلہ کر لیں اور اس طریق میں یہ ضروری ہوگا کہ کم سے کم چالیس نامی مولوی جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی تم امرتسری اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولوی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ایک تحریری اقرار نامه به ثبت شہادت پچاس معزز مسلمانوں کے اخبار کے ذریعہ سے شائع کر دیں کہ اگر ایسا نشان جو درحقیقت فوق العادت ہو ظا ہر ہو گیا تو ہم حضرت ذوالجلال سے ڈر کر مخالفت چھوڑ دیں گے اور بیعت میں داخل ہو جائیں گے۔ص اور اگر یہ طریق آپ کو منظور نہ ہو اور یہ خیالات دامنگیر ہو جائیں کہ ایسا اقرار بیعت شائع کرنے میں ہماری کسر شان ہے اور یا اس قدر انکسار ہر ایک سے غیر ممکن ہے تو ایک اور سہل طریق ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی سہل طریق نہیں۔جس میں نہ آپ کی کوئی کسر شان ہے اور نہ کسی مباہلہ سے کسی خطرناک نتیجہ کا جان یا مال یا عزت کے متعلق کچھ اندیشہ ہے اور وہ یہ کہ آپ لوگ محض خدا تعالیٰ سے خوف کر کے اور اس امت محمدیہ پر رحم فرما کر بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں ایک جلسہ کریں اور اس میں جہاں تک ممکن ہو او جسقدر ہو سکے معزز علماء اور دنیا دار جمع ہوں اور میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ حاضر ہو جاؤں۔تب وہ سب سیہ دُعا کریں کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ یہ شخص مفتری ہے اور تیری طرف سے نہیں ہے اور نہ مسیح موعود ہے اور نہ مہدی