حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 305
305 تک اس عاجز نے ایسا کوئی نشان نہ دکھلایا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور انسانی ہاتھ کی ملونی سے بھی بلند تر ہو۔یا یہ کہ نشان تو دکھلایا مگر اس قسم کے نشان اور مسلمانوں یا اور قوموں سے بھی ظہور میں آگئے تو یہ سمجھا جائے کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور اس صورت میں مجھکو کوئی سخت سزا دیجائے گو موت کی ہی سزا ہو۔کیونکہ اس صورت میں فساد کی تمام بنیاد میری طرف سے ہوگی۔اور مفسد کو سزا دینا قرین انصاف ہے اور خدا پر جھوٹ بولنے سے کوئی گناہ بدتر نہیں۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نے ایک سال کی میعاد کے اندر میری مدد کی اور زمین کے رہنے والوں میں سے کوئی میرا مقابلہ نہ کر سکا۔تو پھر میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ محسنہ میرے مخالفوں کو نرمی سے ہدایت کرے کہ اس نظارہ قدرت کے بعد شرم اور حیا سے کام لیں۔اور تمام مردی اور بہادری سچائی کے قبول کرنے میں ہے۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۹۳ تا ۴۹۵) چالیس نامی علماء کی درخواست پر نشان دکھانے کا چیلنج فرمایا۔”اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ لوگو سچے دل سے توبہ کی نیت کر کے مجھ سے مطالبہ کریں اور خدا کے سامنے یہ عہد کر لیں کہ کوئی فوق العادت امر جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے ظہور میں آجائے تو ہم یہ تمام بغض اور شحناء چھوڑ کر محض خدا کو راضی کرنے کے لئے سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں گے تو ضرور خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھائیگا کیونکہ وہ رحیم اور کریم ہے لیکن میرے اختیار میں نہیں ہے کہ نشان دکھلانے کیلئے دو تین دن مقرر کر دوں یا آپ لوگوں کو مرضی پر چلوں۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جو چاہے تاریخ مقرر کرے۔اگر نیت میں طلب حق ہو تو یہ مقام کسی تکرار کا