حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 307 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 307

307 ہے تو اس فتنہ کو مسلمانوں میں سے دُور کر اور اس کے شر سے اسلام اور اہل اسلام کو بیچا لے جس طرح تو نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو دنیا سے اٹھا کر مسلمانوں کو اُن کے شر سے بچالیا اور اگر یہ تیری طرف سے ہے اور ہماری ہی عقلوں اور فہموں کا قصور ہے تو اے قادر ہمیں سمجھ عطا فرما تا ہم ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کی تائید میں کوئی ایسے امور اور نشان ظاہر فرما کہ ہماری طبیعتیں قبول کر جائیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔اور جب یہ تمام دعا ہو چکے تو میں اور میری جماعت بلند آواز سے آمین کہیں۔اور پھر بعد اسکے میں دُعا کرونگا۔اور اس وقت میرے ہاتھ میں وہ تمام الہامات ہونگے جو ابھی لکھے گئے ہیں اور جو کسی قدر ذیل میں لکھے جائیں گے۔غرض یہی رسالہ مطبوعہ جس میں تمام یہ الہامات ہیں ہاتھ میں ہوگا اور دُعا کا یہ مضمون ہوگا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو اس رسالہ میں درج ہیں جو اِس وقت میرے ہاتھ میں ہے جن کے رُو سے میں اپنے تئیں مسیح موعود اور مہدی معہود سمجھتا ہوں اور حضرت مسیح کو فوت شدہ قرار دیتا ہوں تیرا ص کلام نہیں ہے اور میں تیرے نزدیک کاذب اور مفتری اور دجال ہوں جس نے امت محمدیہ میں فتنہ ڈالا ہے اور تیرا غضب میرے پر ہے تو میں تیری جناب میں تضرع سے دُعا کرتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے ایک سال کے اندر زندوں میں سے میرا نام کاٹ ڈال اور میرا تمام کاروبار درہم برہم کر دے اور دنیا میں سے میرا نشان مٹا ڈال اور اگر میں تیری طرف سے ہوں اور یہ الہامات جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہیں تیری طرف سے ہیں اور میں تیرے فضل کا مورد ہوں تو اے قادر کریم اسی آئندہ سال میں میری جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دے اور فوق العادت برکات شامل حال فرما اور میری عمر میں برکت بخش اور آسمانی تائیدات نازل کر اور جب یہ دعا ہو چکے تو تمام مخالف جو حاضر ہوں آمین کہیں۔