حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 274 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 274

274 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اسے استعمال کرنا شروع کر دیا۔مرزا امام دین کے مشورہ سے آریہ سماج کی تجدید کی گئی اور مرزا امام الدین بنشی مراد علی اور ملاحسیناں وغیرہ لوگ آریہ سماج قادیان کے ممبر بنے اور اس کا مقصد عظیم حضرت اقدس کی مخالفت قرار دیا۔قادیان میں قیام کے دوران لیکھر ام ایک مرتبہ بھی حضرت اقدس کی خدمت میں اظہارِ خیالات کے لئے حاضر نہ ہوا۔خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا مگر اس خط و کتابت کا کوئی بھی عملی نتیجہ پیدا نہ ہوا۔لیکھر ام اپنے خطوط میں اپنی شوخی کے باعث کوئی نہ کوئی بات اسلام پر اعتراض کے رنگ میں کہ دیتا تھا جس کا جواب حضرت اقدس بڑا محققانہ اور مدلل دیتے مگر لیکھرام حقیقت حال کو سمجھنے کی بجائے ہمیشہ الٹا چلتا۔آخر دسمبر ۱۸۸۵ء کے اوائل میں یہ خط و کتابت نتیجہ کے قریب آنے لگی لیکھرام نے پہلے تو سال کیلئے چوہیں سو روپیہ معاوضہ ہی طلب کیا تھا اور حضرت اقدس نے بھی مان ہی لیا تھا لیکن اب قادیان آنے کے بعد معاوضہ کی رقم صرف تین صد روپیہ ماہوار پر آ گئی۔حضرت اقدس چاہتے تھے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاوے اور آریہ سماج کے اصولوں اور تعلیم اسلام کا مقابلہ بھی ہو جاوے۔اس لئے آپ لیکھرام کو بار بار اس طرف لانا چاہتے تھے کہ تم اپنی مذہبی سچائی کے دلائل پیش کرو اور ہم قرآن کی آیتوں سے اپنے مذہب کی سچائی پیش کریں گے۔مگر لیکھر ام اس طرف آنے سے گریز کرتا رہے اور حضرت اقدس کے خطوط کا جواب دیتے وقت بڑی چالا کی سے کام لیتے ہوئے اصل مطالبہ کا ذکر تک نہ کرتا اور ہر دفعہ بنسی اور ٹھٹھے سے بار بار آسمانی نشان طلب کرتا۔چنانچہ ۱۳ دسمبر ۱۸۸۵ء کو اس نے ایک خط لکھا جس میں ۱۴ یا ۱۵ تاریخ اپنے قادیان سے روانہ ہونے کا ذکر کیا تھا۔حضرت اقدس نے پھر اسے مفصل لکھا مگر وہ اس طرف نہ آیا۔آخر اس کی شوخی بڑھتی گئی اور اس نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جو اس کے لئے پیغام موت ثابت ہوا۔اس خط میں اس نے لکھا کہ :۔