حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 275 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 275

275 وو ”مرزا صاحب۔۔۔۔۔۔افسوس کہ آپ نے قرآنی اسپ خود کو اسپ اور اوروں کے اسپ کو خچر قرار دیتے ہیں۔میں نے ویدک اعتراض کا عقل سے جواب دیا اور آپ نے قرآن پر اعتراض کا نقل سے۔مگر وہ عقل سے بسا بعید ہے۔اگر آپ فارغ نہیں تو مجھے بھی تو کام بہت ہے۔اچھا آسمانی نشان تو دکھا دیں۔اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان تو مانگیں تا فیصلہ ہو۔“ ( حیات احمد جلد دوم صفحه ۴۲ ح ) حضرت اقدس نے اس خط کا آخری جواب اسے دے دیا جس میں لکھا کہ :۔” جناب پنڈت صاحب آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقینا سمجھیں کہ ہم کو نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔بیجا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بدزبانی سے نہیں رکھتی۔آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں۔جو یا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بے باکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے۔اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے۔“ ( از حیات احمد جلد دوم صفحه ۴۳ ح ) ان خطوط کو پڑھ لینے کے بعد یہ حقیت آشکار ہو جاتی ہے کہ لیکھرام نے بالآخر خیر الماکرین سے نشان مانگا اور خدا تعالیٰ نے اسی رنگ کا نشان دیا۔یعنی اس کی موت کا نشان دیا۔حضرت اقدس نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر لیکھر ام کی رضامندی سے ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو لیکھرام کی ہلاکت کے متعلق ایک پیشگوئی شائع کر دی۔اسی پیشگوئی کے موافق وہ ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو بمقام لاہور قتل ہو گیا۔حکومت اور آریہ سماج کی پوری سرگرمی اور تفتیش کے باوجوداس