حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 273 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 273

273 کہ اگر آپ سچ مچ ایسے ہی عزت دار ہیں تو ہم آپ کی درخواست منظور کر لیتے ہیں اور جہاں چاہو چوہیں سور و پیہ جمع کرنے کو تیار ہیں۔( از حیات احمد جلد دوم نمبر دوم صفحه ۳۹) اس میں حضرت اقدس نے یہ بھی کہا کہ اگر نشان دیکھ کر تم مسلمان نہ ہوتو بطور تاوان چوبیں سورو پیادا کر و اور اسے تم بھی کسی جگہ داخل کرا دو۔اس مقصد کے لئے آپ نے ہیں یوم کی میعاد مقرر کی لیکن نتیجہ کیا ہوا۔آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل بلایا ہم نے - در حقیقت پنڈت لیکھرام نے مقابلہ میں آنے کا عزم کیا ہی نہ تھا۔وہ تو صرف لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونا چاہتا تھا اور ستی شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔نہ اس نے چوہیں سو روپیہ جمع کرانے کا وعدہ کیا اور نہ اس شرط کو قبول کیا۔آخر وہ مدت گذر گئی۔اس اثناء میں پنڈت رام نے یہ چاہا کہ میں قادیان چلا جاؤں اور پھر مشتہر کر دوں گا کہ میں نشان دیکھنے کے لئے گیا تھا۔مجھے کوئی نشان نہیں دکھایا گیا۔مگر کافروں کے مکایدان کی ہلاکت کا ہی موجب ہوا کرتے ہیں۔لیکھرام کی قادیان آمد مرزا امام دین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائی تھے۔ان کی طبیعت پر دہریت والحاد کا غلبہ تھا اور حضرت کی مخالفت ان کا روزانہ کا شغل تھا۔ان کو معلوم ہواکر لیکھر ام اس قسم کی خط و کتابت کر رہا ہے تو ان کو ایک موقعہ ہاتھ آ گیا اور لیکھرام کو ایک آلہ بنا کر انہوں نے اپنی حاسدانہ مخالفت کے کام کو سرانجام دینا چاہا۔چنانچہ وہ خود گئے اور لیکھر ام کو اپنے ساتھ قادیان لے آئے۔اب انہیں ایک پالتو طوطا ہاتھ آ گیا جسے انہوں نے اپنے سر پر اٹھا لیا اور