حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 244 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 244

244 چھوڑے گا جب تک ایسے لوگوں کو ذلیل کر کے نہ دکھلائے۔منہ فرمایا:۔(استفتاء۔۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۳۵ حاشیه ) ”اور سچ اور واقعی یہی بات ہے کہ میری کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کہ جو پوری نہیں ہوگئی۔اگر کسی کے دل میں شک ہو تو وہ سیدھی نیت سے ہمارے پاس آ جائے اور بالمواجہ کوئی اعتراض کر کے اگر شافی کافی جواب نہ سنے تو ہم ایک ایک تاوان کے سزاوار ٹھہر سکتے ہیں۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۱ ) فرمایا:۔ایسا اعتراض کرنا جو دوسرے پاک نبیوں پر بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہی اعتراض آوے مسلمانوں اور نیک آدمیوں کا کام نہیں ہے بلکہ لعنتیوں اور شیطانوں کا کام ہے۔اگر دل میں فساد نہیں تو قوم کا تفرقہ دور کرنے کے لئے ایک جلسہ کرو۔اور مجلس عام میں میرے پر اعتراض کرو کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی۔پھر اگر حاضرین نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ فی الواقع جھوٹی نکلی اور میرے جواب کو سنکر مدلل اور شرعی دلیل سے رد کر دیا تو اسی وقت میں تو بہ کروں گا۔ورنہ چاہئے کہ سب تو بہ کر کے اس جماعت میں داخل ہو جائیں اور در دندگی اور بدزبانی چھوڑ دیں۔“ فرمایا:۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵) ”اگر میرے پر یہ الزام لگایا جائے کہ کوئی پیشگوئی میری پوری نہیں ہوئی یا پورا ہونے کی امید جاتی رہی تو اگر میں نے بحوالہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے یہ ثابت نہ کر دیا کہ درحقیقت وہ تمام پیشگویاں پوری ہو گئی ہیں یا بعض انتظار کے لائق ہیں اور