حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 243 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 243

243 کرتا ہوں کہ کوئی آئندہ کی غیب گوئی جو انسان کی نیکی یا بدی سے کچھ بھی تعلق نہ رکھے اور کسی انسانی فرد پر اس کا اثر نہ ہو اپنے خدا سے حاصل کر کے بتلاؤں اور اپنے صدق یا کذب کا اس کو مدار ٹھیراؤں اور درصورت کا ذب ہونے کے ہر ایک سزا اٹھاؤں مگر ان میں کون ہے جو اس فیصلہ کو منظور کرے۔“ نیز فرمایا:۔( کشف الغطاء - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۰۶) ”سیدھی بات تھی کہ آپ لوگ ملہم کہلاتے ہیں۔استجابت دعا کا بھی دعوئی ہے۔چند پیشگوئیاں جو استجابت دعا پر بھی مشتمل ہو بذریعہ اشتہار شائع کر دیں اور اس طرف سے میں بھی شائع کر دوں۔ایک برس سے زیادہ میعاد نہ ہو۔پھر اگر آپ لوگوں کی پیشگوئیاں سچی نکلیں تو ایکدم میں ہزار ہا لوگ میری جماعت کے آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور جھوٹے کا منہ کالا ہو جائے گا۔کیا آپ اس درخواست کو قبول کر لیں گے ؟ ممکن نہیں۔“ تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۴۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پیشگوئیوں پر کئے جانے والے اعتراضات کے تصفیہ کے لئے بھی کئی انعامی چیلنج دیئے جو حسب ذیل ہیں :۔اس شیخ دشمن حق کا یہ بھی میرے پر افترا ہے کہ اور بھی بعض پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔ہم شیخ مذکور کوفی پیشگوئی سوروپیہ نقد دینے کو تیار ہیں اگر وہ ثابت کر سکے کہ فلاں پیشگوئی خلاف واقعہ ظہور میں آئی۔مگر کیا وہ بات سن کر تحقیقات کے لئے درخواست کرے گا؟ نہیں اس کو نخوت نے اندھا کر دیا ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص مفسد اور دشمن حق ہے اس پر آشوب زمانہ میں اسلام کی عزت اور شوکت اور بزرگی ظاہر ہو۔مگر یہ اس ارادہ میں ناکام رہے گا۔میری بات سن رکھو۔اب سے خوب یاد رکھو۔کہ خدا بہت سے نشان دکھائے گا۔نہیں