حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 245 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 245

245 وہ اسی رنگ کی ہیں جیسا کہ نبیوں کی پیشگوئیاں تھیں تو بلا شبہ میں ہر ایک مجلس میں جھوٹا ٹھیروں گا۔لیکن اگر میری باتیں نبیوں کی باتوں سے مشابہ ہیں تو جو مجھے جھوٹا کہتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔“ اربعین۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۴۹) فرمایا:- ” اور اگر شک ہو تو خدا تعالیٰ کا خوف کر کے ایک جلسہ کرو اور ہمارے معجزات اور پیشگوئیاں سنو اور ہمارے گواہوں کی شہادت ، رؤیت جو حلفی شہادت ہوگی قلمبند کرتے جاؤ اور اگر آپ لوگوں کے لئے ممکن ہو تو باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں کسی نبی یا ولی کے معجزات کو ان کے مقابل پیش کرو لیکن نہ قصوں کے رنگ میں بلکہ رؤیت کے گواہ پیش کرو۔کیونکہ قصے تو ہندوؤں کے پاس بھی کچھ کم نہیں۔قصوں کو پیش کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ ایک گوبر کا انبار مشک اور عنبر کے مقابل پر۔مگر یاد رکھو کہ ان معجزات اور پیشگوئیوں کی نظیر جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہورہے ہیں کمیت اور کیفیت اور ثبوت کے لحاظ سے ہرگز پیش نہ کر سکو گے خواہ تلاش کرتے کرسکو کرتے مر بھی جاؤ۔“ ( نزول امسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۲) اے متعصب لوگو! اس قدر جھوٹ بولنا تمہیں کس نے سکھایا؟ ایک مجلس مثلاً بٹالہ میں مقرر کرو اور شیطانی جذبات سے دور ہو کر میری تقریر سنو۔پھر اگر ثابت ہو کہ میری سو پیشگوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔اور یوں بھی خدا سے لڑنا ہے تو صبر کرو اور اپنا انجام دیکھو۔منہ اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۶۱ حاشیہ) ”ایسا ہی یہ لوگ جو عقل کے پورے میری بعض پیشگوئیوں کا جھوٹا نکلنا اپنے ہی دل