حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 216 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 216

216 ڈپٹی عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی عبد اللہ آتھم قریباً ۱۸۳۸ء میں بمقام انبالہ پیدا ہوا اور ۲۸ / مارچ ۱۸۵۳ء کو اس نے کراچی میں میں بپتسمہ لیا ور اسی موقع پر اس نے اپنے نام کے ساتھ آئم یعنی گناہگار کا لفظ لگایا۔پہلے انبالہ تر نتارن اور بٹالہ میں تحصیلدار رہا پھر سیالکوٹ انبالہ اور کرنال میں اے ای سی کے عہدہ پر رہا اور پھر ریٹائر ہونے کے بعد اس نے اپنی خدمات امرتسر مشن کو سپرد کر دیں اور اسلام کے خلاف چند کتب لکھیں۔۱۸۹۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عیسائیوں سے ایک مباحثہ قرار پایا۔عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم مناظر مقرر ہوا۔یہ مباحثہ امرتسر میں ہوا اور پندرہ دن تک رہا۔یہ مباحثہ جنگ مقدس کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اس مباحثہ کے آخری دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر آتھم کے متعلق ایک پیشگوئی کا اعلان فرمایا کہ۔” اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی مباحثہ کے دنوں کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔الخ جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۲٬۲۹۱) اس پیشگوئی کے اعلان پر یہ پندرہ دن کی مقدس جنگ ختم ہوگئی اور اس پیشگوئی کے نتیجہ کا لوگ انتظار کرنے لگے۔اور اللہ تعالیٰ کا چونکہ منشاء تھا کہ اس نشن کو ایک عظیم الشان صورت میں ظاہر کرے اور اس کی صورت یوں ہوئی کہ جب پیشگوئی کی میعاد ختم ہوگئی اور آتھم رجوع بحق کی وجہ سے پندرہ ماہ میں فوت نہ ہوا تو عیسائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی غلط نکلی۔اس پر حضور نے انہیں سمجھایا کہ پیشگوئی میں یہ تھا کہ آتھم اگر رجوع کرلے گا تو ہادیہ میں