حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 196
196 سے بحث کرنا چاہیں تو میں طیار ہوں اور اگر وہ خاص بحثیں جنکی درخواست اس تحریر میں کی گئی ہے پسند خاطر ہوں تو ان کیلئے بھی حاضر ہوں۔اب انشاء اللہ یہ کا غذات چھپ جائیں گے اور مولوی صاحب نے جس قد ر تیز زبانی سے ناحق کو حق قرار دیا ہے پبلک کو اس پر رائے لگانے کیلئے موقعہ ملے گا۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمین۔خاکسار راقم غلام احمد ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ء الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۱۲۵) بظاہر متعارض چند احادیث کی تطبیق کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ لدھیانہ میں مباحثہ کے دوران مولوی بٹالوی صاحب کو بظاہر متعارض چند بخاری اور مسلم کی احادیث میں تطبیق کر دینے پر مبلغ پچیس روپے انعام دینے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔”امام ابن خزیمہ تو فوت ہو گئے۔اب ان کے دعوی کی نسبت کچھ کلام کرنا بیفا ئدہ ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اپنے مضمون کے سنانے کے وقت بڑے جوش میں آ کر فرمایا تھا کہ ابن خزیمہ تو امام وقت تھے میں خود دعوی کرتا ہوں کہ دو متعارض حدیثوں میں جو دونوں صحیح الاسناد تسلیم کی گئی ہوں تو فیق و تالیف دے سکتا ہوں اور ابھی دے سکتا ہوں۔آپ کا یہ دعویٰ ہر چند اس وقت ہی فضول سمجھا گیا تھا لیکن برعایت شرائط قرار یافتہ مناظرہ اس وقت آپ کی تقریر میں بولنا نا جائز اور ممنوع تھا۔چونکہ آپ کی خودستائی حد سے گذرگئی ہے اور عجز و نیاز اور عبودیت کا کوئی خانہ نظر نہیں آتا اور اس وقت انا اعلم کا جوش آپ کے نفس میں پایا جاتا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی دعوئی کے رو سے آپ کے کمالات کی آزمائش کروں جس آزمائش کے ضمن میں میری اصل بحث بھی لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔میں بالطبع اس