حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 197
197 سے کارہ ہوں کہ کسی سے خواہ نخواہ آویزش کروں لیکن چونکہ آپ کر بیٹھے ہیں اور دوسروں کو تحقیر اور ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ آپ کے خیال میں امام اعظم کو بھی حدیث دانی میں آپ سے کچھ نسبت نہیں۔اس لئے بقول سعدی نداد کسے با تو ناگفته کار و لیکن چو گفتی دلیلش بیار چاہتا ہوں کہ چھ سات حدیثیں بخاری اور مسلم کی یکے بعد دیگرے جن میں میری نظر میں تعارض ہے آپ کی خدمت میں پیش کروں۔اگر آپ ان میں تو فیق و تالیف امام ابن خزیمہ کی طرح کر دکھائیں گے تو میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپ کے کمالات کا قائل ہو جاؤں گا۔“ (الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه۱۰۲ تا۱۰۴) مولوی بٹالوی کو بالمقابل انجیل کی تفسیر لکھنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔شیخ بطال محمد حسین بطالوی جو اہل قبلہ کو کافر کہنے سے باز نہیں آتا۔اب اس تفسیر کے شائع ہونے سے پہلے اسی انجیل کی تفسیر لکھے تا اس کی علمی اور ایمانی قوت معلوم ہو ور نہ ایسی لیاقت قابل شرم ہے جیسا کہ اس نے عیسائیوں کے مباحثہ کی نسبت ہمارے پندرہ دن فی البدیہ تقریر پر ہماری ہی باتیں پھر اچر ا کر ڈھائی برس میں گھر میں بیٹھ کر نکتہ چینی کا مضمون تیار کیا اور مر مر کر دوسروں سے مدد لے کر ہمارے پندرہ دن کی جگہ 6 تمہیں مہینے خرچ کئے۔منہ۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۲۱) گورنمٹ عالیہ کے سچے خیر خواہ کے پہچاننے کیلئے ایک کھلا کھلا طریق آزمائش مولوی محمد حسین بٹالوی کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو