حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 190
190 کرتے ہوئے فرمایا:۔” اور یقیناً سمجھنا چاہئے کہ یہ بھی نری لاف ہے کہ وید کے رشی تمام ممالک کی اصلاح کے لئے مامور ہوئے تھے۔اگر ایسا ہوتا تو وید میں ضرور یہ لکھا ہوتا کہ کبھی وہ رشی اپنی چار دیوار آریہ دیس سے نکل کر کسی دور دراز ملک میں وعظ کرنے کے لئے گئے تھے۔وید میں امریکہ کا کہاں ذکر ہے۔افریقہ کا نشان کہاں پایا جاتا ہے۔یوروپ کے مختلف ملکوں اور حصوں سے وید کو کب خبر ہے بلکہ ایشیائی ملکوں کی اطلاع سے بھی وید غافل ہے اور اس کے پڑھنے سے جابجا صاف معلوم ہوتا ہے کہ پر میشر کی ہمگی تمامی جائیداد ہندوستان یعنی آریہ دیس ہی ہے۔بھلا اگر ہم ان تمام باتوں میں بچے نہیں ہیں تو دیدوں کے رو سے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ کسی وید کے رشیوں نے آریہ دیس سے باہر قدم رکھ کر اور ویدوں کو اپنی بغل میں لے کر غیر ممالک کا بھی سفر کیا تھا۔یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۸۶) ۴۔نیوگ آریہ سماج کے ایک بہت ہی معروف پنڈت دیا نند نے اپنے ایک مضمون میں از روئے دید نیوگ کا اثبات کرتے ہوئے بیوہ اور بے اولا د خاوند والی عورت کے لئے نیوگ جائز قرار دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت دیانند کے اس عقیدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تو بعض آریوں نے خاوند والی عورت کیلئے نیوگ کو نا جائز قرار دیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درج ذیل چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔اس لئے ہم اس رسالہ کے ساتھ ایک سو روپیہ کا اشتہار بھی دیتے ہیں کہ اگر یہ بات خلاف نکلے کہ پنڈت دیانند نے وید کے حوالہ سے نہ صرف بیوہ کا غیر سے بغیر نکاح کے ہمبستر ہونا ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے بلکہ عمدہ عمدہ وید کی شرتیوں کا حوالہ دے کر