حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 191 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 191

191 اس قسم کے نیوگ کو بھی ثابت کر دیا ہے کہ خاوند والی عورت اولاد کے لئے غیر سے نطفہ لیوے اور غیر اس سے اس مدت تک بخوشی ہم بستر ہوتا رہے جبتک کہ چند لڑ کے پیدا نہ ہو لیں تو ہم اس بیان کے خلاف واقعہ نکلنے کی صورت میں نقد سوروپیہ اشتہار جاری کرنے والوں کو دیدیں گے۔اور اس وقت وہ گالیاں جو اشتہار میں لکھی ہیں ہمارے حق میں راست آئیں گی۔اگر روپیہ ملنے میں شک ہو تو ان چاروں صاحبوں میں سے جو شخص چاہے باضابطہ رسید دینے کے بعد وہ رو پید اپنے پاس جمع کرالے اور ہر طرح سے تسلی کر لیں اور ہمیں یہ ثبوت دیں کہ خاوند والی عورت کا نیوگ جائز نہیں اور اگر اس رسالہ کے شائع ہونے سے ایک ماہ کے عرصہ میں جواب نہ دیں تو ان کی ہٹ دھرمی ثابت ہوگی اور ثابت ہوگا کہ در حقیقت وہ لوگ آپ ہی خبیث النفس اور قدیمی متعصب اور غلط بیان ہیں جو کسی طرح ناپاکی کے راہ کو چھوڑ نا نہیں چاہتے۔“ آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۱۴) ۵۔نجات 66 مکتی یعنی نجات کے متعلق آریہ سماج کا عقیدہ ہے کہ اعمال چونکہ محدود ہیں اس لئے محدود اعمال کا غیر محدود بدلہ نہیں ہو سکتا۔لہذا نجات دائمی نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریہ کو اپنے اس خیال کی تائید میں ویدوں سے کوئی شرقی پیش کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔بھلا کوئی ایسی شرتی پیش تو کرو جس میں پر میشر نے کہا ہو کہ میں دائی نجات دینے پر قادر تو تھا لیکن میں نے نہ چاہا کہ محدود اعمال کا غیر محدود بدلہ دوں۔ہم ایسے کسی آریہ کو ہزار روپیہ نقد ر دینے کو تیار ہیں۔“ (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۱)