حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 160
160 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور اشتہارات اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ مذہبی مباحثات میں شیر ببر کی طرح گرجے اور تمام مخالفین اسلام کو مقابلہ کیلئے للکارا اور بار بار چیلنج دیا کہ آؤ اور اپنی اپنی الہامی کتابوں کا قرآن مجید سے مقابلہ کر لو اور بصورت مغلوبیت آپ نے ہزارہا روپے دینے کا وعدہ بھی کیا۔لیکن کسی کو آپ کے مقابلے پر آنے کا یارا نہ ہوا۔ذیل میں وہ تمام چینج پیش کئے جارہے ہیں جو آپ نے مخالفین قرآن کو اپنی اپنی الہامی اور مقدس کتب کا قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کے لئے دیئے۔فضائل القرآن میں مقابلہ کے چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام قبول کرنے کے وعدہ کے ساتھ قرآن کریم سے ہر قسم کی دینی صداقت پیش کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اگر اس امر میں شک ہو کہ قرآن شریف کیونکر تمام حقائق الہی پر حاوی ہے تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اٹھاتے ہیں کہ کوئی صاحب طالب حق بن کر یعنی اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کر کے کسی کتاب عبرانی ، یونانی، لاطینی ، انگریزی اور سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الہیات کا نہایت بار یک دقیقہ پیدا کر کے دکھلاویں تو ہم اس کو قرآن شریف میں نکال دیں گے۔بشرطیکہ اسی کتاب کی اثنائے طبع میں ہمارے پاس بھیج دیں تا اس کے کسی مقام مناسب میں بطور حاشیہ مندرج ہو کر شائع ہو جائے۔مگر ایسے سوال کے پیش کرنے میں یہ شرط بھی بخوبی یادر ہے کہ جو شخص محرک اس بحث کے ہوں وہ اوّل اس صدق اور صفائی سے کسی اخبار میں شائع کرا دیں کہ یہ بحث محض حق کی خاطر کرتے ہیں اور اپنا پورا پورا جواب پانے سے مطمئن ہو کر مستعد ہیں۔“ ( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر اصفحه ۲۷۲ تا ۲۸۲)